16/08/2026
ہیلمٹ نہ پہننے کی سزا موت نہیں ہونی چاہیے
کالم: عبدالکریم طاہر
سڑک پر قانون کی پابندی ہر شہری کی ذمہ داری ہے، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ قانون کا مقصد شہریوں کی حفاظت ہے، ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا نہیں۔
لودھراں کی تحصیل دنیاپور کے علاقے نوترا میں پیش آنے والے کاشف کے افسوسناک واقعے نے اسی بنیادی سوال کو جنم دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کاشف نامی سیکیورٹی گارڈ ڈیوٹی سے واپس اپنے گھر جا رہا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر ہیلمٹ نہیں پہن رکھا تھا۔ الزام ہے کہ ٹریفک اہلکار امجد نے اسے روکنے کے بجائے تعاقب کیا اور چلتی موٹر سائیکل کو مبینہ طور پر لات ماری، جس کے نتیجے میں کاشف موٹر سائیکل پر قابو نہ رکھ سکا اور کھمبے سے جا ٹکرایا۔
شدید زخمی حالت میں اسے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ اگر یہ الزامات تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض ایک ٹریفک خلاف ورزی کا نہیں رہتا بلکہ شہری کی جان کو مبینہ طور پر خطرے میں ڈالنے کا سنگین معاملہ بن جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال ضرور اٹھتا ہے: اگر کسی شہری نے ہیلمٹ نہیں پہنا تو قانون کیا کہتا ہے؟
قانون چالان کا اختیار دیتا ہے، روکنے اور قانونی کارروائی کا طریقہ موجود ہے، مگر کسی شہری کو ایسے طریقے سے روکنا جس سے اس کی جان خطرے میں پڑ جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔
کاشف شاید اپنے بچوں کے لیے رزق کمانے نکلا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ گھر سے نکلتے وقت یہ اس کا آخری سفر ثابت ہوگا۔ ایک گھر کا کفیل دنیا سے چلا گیا، بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور ایک خاندان ایسی محرومی سے دوچار ہوگیا جس کا ازالہ کسی چالان، جرمانے یا معافی سے ممکن نہیں۔
تاہم اس واقعے پر جذباتی فیصلے کے بجائے شفاف، غیرجانبدار اور مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ عینی شاہدین کے بیانات، جائے وقوعہ کے شواہد، سی سی ٹی وی یا دستیاب ویڈیو، میڈیکل رپورٹ اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کی روشنی میں یہ طے کیا جانا چاہیے کہ اصل میں کیا ہوا۔
اگر تحقیقات میں ٹریفک اہلکار پر عائد الزام ثابت ہوتا ہے تو قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ یہ واضح ہو کہ وردی قانون کی طاقت ضرور دیتی ہے، مگر شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کا اختیار نہیں۔
اور اگر تحقیقات میں الزام ثابت نہ ہو تو حقائق بھی عوام کے سامنے واضح کیے جانے چاہئیں، کیونکہ انصاف کا تقاضا صرف سزا نہیں بلکہ سچ سامنے لانا بھی ہے۔
ہیلمٹ پہننا ضروری ہے۔ ٹریفک قوانین کی پابندی بھی ضروری ہے۔ مگر قانون کی عمل داری کا اصل حسن یہ ہے کہ قانون نافذ کرتے ہوئے بھی انسانی جان کی حرمت مقدم رہے۔
کاشف واپس نہیں آ سکتا، لیکن اس واقعے سے ایسا سبق ضرور نکلنا چاہیے کہ آئندہ کسی شہری کو روکنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جو ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی کو زندگی اور موت کے سانحے میں بدل دے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ کاشف نے ہیلمٹ کیوں نہیں پہنا؛ اصل سوال یہ بھی ہے کہ شہریوں کو قانون پر عمل کرانے کا طریقہ کتنا محفوظ، مہذب اور انسانی ہے؟
اتحاد پریس کلب بہاولپور — عوام کی آواز
عبدالکریم طاہر