Malik Aadil Goods transport Coملک عادل گڈز

Malik Aadil Goods transport Coملک عادل گڈز ماشاءاللہ۔ باکمال لوگ لاجواب سروس

22/03/2026
30/04/2024
19/04/2024

✨🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰✨
*میاں والی بولی اور میانوالی کا لسانی تعارف۔*

*میانوالی* *کب سے کہاں تک*
میانوالی کو 9 نومبر 1901کےدن ضلع کا درجہ ملا۔1901ء کی مردم شماری (Census of India1901) کےاعداد و شمار کے مطابق 1901ءمیں میانوالی کی کل آبادی چار لاکھ چوبیس ہزار پانچ سو اٹھاسی(424588) تھی۔اُس وقت ضلع میانوالی میں مسلمانوں کی کل تعداد 371674، ہندو آبادی، 50202 سکھوں کی تعداد 2633،یورپی عیسائیوں کی تعداد19،مقامی عیسائیوں کی تعداد16 جب کہ یوریشین عیسائیوں کی تعداد9تھی۔ ان کے علاوہ 35 افراد دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔یاد رہے کہ 1901ء میں جب یہ مردم شماری ہوئی تھی تو اس وقت ضلع میانوالی میں بھکر اور لیہ کے علاقے بھی شامل تھے۔2017ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع کی آبادی1542601افراد پر مشتمل تھی۔ میانوالی کا کل رقبہ 5840 مربع کلومیٹر ہے۔میانوالی کا ضلع سطح سمندر سے اوسطاً 210 میٹر (688.98 فٹ) بلند ہے۔کچھ روایات کےمطابق مختلف زمانوں میں میانوالی کے علاقے کے حسبِ ذیل آٹھ نام رہے ہیں:
1۔دھنو رام ، 2۔کرشنو رام ، 3۔ رام نگر ، 4۔ستنام ، 5۔ کچھی، 6۔میاں دی میل ، 7۔ میاں علی ، 8۔ میانوالی (میاں عالی/میاں آلی)
مذکورہ بالاناموں میں سے ابتدائی چار نام اس علاقے کی قدیم ہندو ثقافت سے منسوب ہیں جب کہ بقیہ چار ناموں کے بارے میں روایات حسبِ ذیل ہیں۔
کچھی: یہ نام دریائے سندھ کے کنارے پر آباد ہونے کی وجہ سے پڑا کیونکہ میانی بولی میں ”کنارے“ کو” کچھ“ کہا جاتا ہے۔
میاں دی میل: دورِ اکبری میں میانوالی کے خطے پر گکھڑوں کی عملداری تھی۔ اس دوران بغداد کے ایک بزرگ ، شیخ جلال الدینؒ ہندوستان آئے ۔آپ کے ساتھ آپ کے صاحبزادے میاں علیؒ بھی تھے۔ابتدا میں انھوں نے کلورکوٹ کے مقام کواپنا مسکن بنایا لیکن شیخ جلال الدین ؒ کے انتقال کے بعد میاں علیؒ اِس جگہ منتقل ہو گئے جہاں آج میانوالی شہر آباد ہے ۔اُن کے نام کی نسبت سے ان کے عقیدت مند اِس علاقے کو ”میاں دی میل“ کہنے لگے جس کا مطلب میاں کی سرزمین بنتا ہے ۔
میاں علی: میاں علیؒ کی نسبت سے اِس علاقے کو میاں علی بھی کہا جاتا رہا۔
میانوالی( میاں عالی/میاں آلی): اِس علاقے کا موجودہ نام بھی میاں علیؒ کے نام سے منسوب ہے البتہ لفظ ”میانوالی “ کا موجودہ تلفظ دو طرح سے ادا کیا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اسے ”میاں عالی“ یا ” میاں آلی“ کہتے ہیں لیکن لکھتے وقت اس نام کو اردو میں ڈھال کر میانوالی لکھتے ہیں۔ جبکہ میانوالی سے باہر کے لوگ اِسے میانوالی بولتے اور لکھتے ہیں۔ میانوالی سے باہرکے لوگ گفتگو کے دوران میانوالی کے لوگوں کو ان کے مخصوص لہجے کی وجہ سے پہچان لیتے ہیں، گویا میانوالی کے لوگوں کا لہجہ اپنی ایک خاص پہچان رکھتا ہے لیکن اس لہجے کو کوئی نام نہیں دیا جا تا تھا۔ جس طرح اس خطے کا نام میاں سلطان زکری ؒ کے خانوادے کی نسبت سے میانوالی پڑا ،اسی نسبت کی وجہ سے راقم نے میانوالی کی بولی کو ” میانی بولی“ لکھاہے۔میانوالی کے لوگوں کی بولی کو ایک الگ زبان نہیں کہا جا سکتا لیکن کچھ انفرادیتوں کی وجہ سے یہ ایک الگ لہجہ ضرور ہے۔ اس سلسلے میں زبان اور لہجے کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ زبانوں کے ماہرین کے خیال میں اگر دوافراد کی گفتگو کے دوران ترجمان کی ضرورت نہ پڑے تو تلفظ یا قواعد کے معمولی فرق کے باوجود بولنے والوں کی زبان کو ایک ہی زبان مانا جائے گا۔ دوران گفتگو منہ سے جو آوازیں ادا ہوتی ہیں وہ مختلف خطوں میں، کئی وجوہات کی بنا پر ، یکساں نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے مختلف خطوں کے افراد کو گفتگو کی روانی کے دوران کم یا زیادہ دقت کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن اس صوتی فرق کی وجہ سے دو افراد کی زبان کو الگ زبان نہیں کہا جائے گا۔ جس طرح عربی زبان میں ”غ“ کی ادائیگی بعض علاقوں میں عربی بولنے والے”گ“ کے قریب کرتے ہیں یا جس طرح پشتو کے بعض لہجوں میں”ش“ کو ”خ“ کے قریب بولا جاتا ہے یاجس طرح انگریزی زبان کی اصوات کو براعظم یورپ،براعظم آسٹریلیا اور براعظم امریکہ وغیرہ میں یکساں ادا نہیں کیا جاتا، اس کے باوجود ان خطوں کے انگریزی بولنے والے لوگوں کی زبان کو الگ زبان نہیں کہا جا سکتا۔خود ہمارے ہاں برصغیر پر انگریزوں کے تسلط کے بعد جب انگریزی بولنےکا رجحان پیدا ہو تو انگریزی بولنے والے پاک و ہند کے لوگ C,K,P,R,T,W وغیرہ کی آوازوں کو اہلِ زبان سے خاصا مختلف کر کے ادا کرتے ہیں لیکن چند حروف کی اصوات کواصل انگریزی آوازوں سے مختلف کر کے اداکرنے کی وجہ سے یہ کوئی نئی زبان نہیں بن جاتی بلکہ تلفظ کے اس فرق کی وجہ سے انگریزوں نے اسےانگریزی کے ہندی لہجہ (Indian Dialect)کا نام دیا ہے۔میانوالی کے لوگ اپنے گردونواح کے اضلاع کے لوگوں کی گفتگو تھوڑے بہت فرق کے باوجود سمجھ لیتے ہیں اور میانوالی کے لوگوں کی بات بھی اردگرد کے اضلاع کے لوگ سمجھ لیتے ہیں اس لیے میانوالی کی بولی کو الگ زبان کہنے کی بجائے ایک الگ لہجہ کہا جائے گا۔ہمارے ارد گرد کے اضلاع اور علاقوں میں ہر لہجے کو ایک مخصوص نام دیا گیا ہےجیسے کہ سرگودھا اور گردونواح کے لہجے کو ”شاہپوری “ چکوال اور گردونواح کے لہجے کو ”دھنی “ ، اٹک اور حضرو وغیرہ کے لوگوں کے لہجے کو ”چھاچھی“، جھنگ اور گردو نواح کے لہجے کو ”جھنگوچی“ لاہور اور گردو نواح کے لہجے کو ”ماجھی“ پنڈی گھیب اور گردو نواح کےلہجےکو”گھیبی“ راولپنڈی اور گردو نواح کے لہجے کو ”پوٹھوہاری“ ڈیرہ غازی خان اور گردو نواح کے لہجےکو ”ڈیرے وال“بہاولپور کے لہجے کو ”ریاستی“ ملتان اور گردونواح کے لہجے کو ”ملتانی“ کہا جاتا ہے لیکن میانوالی کے لوگوں کے لہجے کا کوئی نام موجود نہیں تھا۔ پاکستان کی زبانوں اور زبانوں کے لہجوں کے ذکر کے دوران میانوالی کے لہجے کاکہیں شمار نہیں تھا اس لیے راقم نے میاں سلطان زکری ؒ کے خانوادے کی نسبت سے میانوالی کے لوگوں کی بولی کو ”میانی بولی“ کہا ہے۔میانوالی کے لوگ نہ صرف پنجاب بھر کی بولیوں اور لہجوں کو تھوڑے بہت فرق کے باوجود سمجھ لیتے ہیں بلکہ صوبہ پنجاب سے باہر کے بعض علاقوں میں بھی میانوالی کے لوگوں کی بولی کو سمجھ لیا جاتا ہے جیسے کہ صوبہ خیبر پختون خوا کے ہندکو بولنے والے لوگ میانوالی کی بولی کو سمجھ سکتے ہیں، اسی طرح صوبہ سندھ کے شمالی علاقوں کے سری لہجہ بولنے والے لوگ بھی میانوالی کی بولی کو سمجھ لیتے ہیں تاہم میانوالی کے لوگ مذکورہ بالا خطوں کے لوگوں سے گفتگو کریں تو اپنے مخصوص لب و لہجے کی وجہ سے انھیں پہچان لیا جاتا ہے چنانچہ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ” میانی بولی“ کوئی الگ زبان نہیں بلکہ ایک الگ لہجہ ہے، گزشتہ صدی کے ابتدائی عشروں میں انگریز محقق اور ماہرِ لسانیات سرجارج گریئر سن نے اپنی مشہور تحقیق ” Linguistic Survey of India“ میں انگریز دور کے ہندوستان کی 364 زبانوں اور لہجوں پر تحقیق کی۔ جارج گریئر سن نے اپنی اس تحقیق میں میانوالی کی بولی کو تھلی /تھلوچڑی لہجہ کہاہے۔جارج گریئرسن کا یہ نظریہ جس وقت سامنے آیا تھا اُس وقت کے حالات کے لحاظ سے درست تھا مگر موجودہ صورتِ حال میں درست نہیں رہا کیوں کہ جس وقت گریئر سن نے اپنی تحقیق پیش کی تھی اُس وقت میانوالی کا بیشتر حصہ تھل پر مشتمل تھا اور اکثریت کی زبان تھلی ہی تھی مگر تھل کا علاقہ اب ضلع میانوالی کا حصہ نہیں ہے۔ضلع لیّہ اور ضلع بھکرکے وہ علاقے جو تھل کہلاتے ہیں اب میانوالی کا حصہ نہیں رہے۔ میانوالی کی تحصیل لیہ کو 1909 ء میں ضلع مظفرگڑھ میں شامل کر لیا گیا جب کہ یکم جولائی 1982ء کو میانوالی کی تحصیل بھکر کو ضلع کا درجہ ملنے سے تھل کا بیشتر حصہ میانوالی سے الگ ہو گیاہے۔اب تھل کا بہت کم حصہ میانوالی میں شامل ہے اس لیےتھلوچڑی لہجہ بولنےوالے لوگ یہاں بہت کم ہیں ۔اِس صورتِ حال میں موجودہ میانوالی کی بولی پر جارج گرئیرسن کے نظریے کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔میانوالی کی آبادی کی اکثریت نیازی قبیلے کے پٹھانوں پر مشتمل ہے جن کی قدیم آبائی زبان پشتو تھی مگر اب یہ لوگ پشتو زبان بول اور سمجھ نہیں سکتے اور پشتو کی بجائے میانی بولی بولتے ہیں۔ میانی بولی کا اشتراک کئی زبانوں اور لہجوں کے ساتھ موجود ہے۔ دیگر کئی زبانوں کے الفاظ بھی میانی بولی میں موجود ہیں۔ میانی بولی میں منڈا قبائل کی بولی اور دراوڑی زبان کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ میانی بولی میں ویدی زبان اور سنسکرت کے الفاظ بھی کثرت سے مستعمل ہیں۔ عربی اور فارسی الفاظ بھی تلفظ کے تصرف کے ساتھ یہاں عام بولے جاتے ہیں۔ ترکی اور یونانی زبان کے بعض الفاظ بھی یہاں مستعمل ہیں۔میانی بولی کے لفظوں کا اشتراک ارد گرد کی زبانوں اور لہجوں سے بھی ہے۔ ہندکو ، سرائیکی، پنجابی ،سندھی، پشتو ، بلوچی ، براہوی، کشمیری، گوجری ، انگریزی ،پرتگیزی، اطالوی ، لاطینی، جرمنی اور روسی زبان سےمیانی بولی کا لغوی اشتراک موجود ہے۔ نیز پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی زبانوں سے بھی لغوی اشتراک ہے مگرمیانی بولی میں مذکورہ بالا زبانوں کے الفاظ کا تناسب مختلف ہے۔ کسی سرسری جائزے کے تحت اس اشتراک کا تناسب طے کرنا بہت مشکل ہے اور زبانوں کی تحقیق کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔اس کام کے لئے ایک باقاعدہ تحقیق کی ضرورت ہے۔میانی بولی میں کئی ایسے الفاظ بھی بولے جاتے ہیں جو بظاہر کسی دوسری بولی یا زبان میں نظر نہیں آتے ۔ ایسے الفاظ کے بارے ابھی تک معلوم کرنے کی کوئی باقاعدہ کوشش نہیں کی گئی کہ اِن الفاظ کی اصلیت کیا ہے۔کیا یہ کسی دوسری زبان کے الفاظ ہیں اور تلفظ کی تبدیلی کی وجہ سے اصل ماخد سے مختلف ہیں یا پھر یہ الفاظ کسی قسم کی انفرادیت ہیں۔مثلاََاباغُت (اچانک)،اوڈھے پوونا (چھپ چھپ کر باتیں سننا)، آم سام (پناہ میں آنا)،چھن چھوبی (غسل خانہ) وِٹوانی(پاخانہ) باندا(مقامی کھیل کا سکور)، پُلے پُلے(آہستہ آہستہ) تِریاکُل (ناواقف، نامحرم)،تھنج ڈیونا (بچے کو دودھ پلانا)، ٹُوپنی(ڈھیر)۔ قواعد کے لحاظ سے بھی میانی بولی اپنے اردگرد کی بولیوں سے کہیں کہیں قدرے مختلف ہیں،میانی بولی کے حروفِ تہجی یعنی بول چال کے دوران پیدا ہونے والی اصوات بھی قابلِ غور ہیں۔ میانوالی کی اکثریت کی قدیم آبائی زبان پشتو تھی مگر اب میانوالی کے لوگ پشتو زبان کی مخصوص آوازیں ادا کرنے سے قاصر ہیں اور پشتو میں جوآوازیں موجود نہیں ہیں،اُن اصوات کو ادا کر سکتےہیں میانوالی کے لوگ پنجابی اور سندھی کی تمام آوازیں ادا کرسکتے ہیں۔ سندھی زبان میں ب ج ڈاور گ کی آوازوں کے قریب جو قدرے مختلف آوازیں ہیں وہ دریائے سندھ کے کنارے بالائی حصوں تک موجود ہیں جیسے کہ : ”بکری“ ،” جماندرُو“ ،” ڈکھ“،” گُڑ“ کے الفاظ کے شروع میں یہ آوازیں مستعمل ہیں۔ ان سندھی آوازوں کا اختتام میانوالی کے شمال مشرق میں موجود کوہستانِ نمک پر ہوتا ہے ۔ میانوالی کے جو علاقے کوہستانِ نمک کےمشرق میں موجود ہیں وہاں کے لوگ یہ آوازیں ادا نہیں کرتے۔ میانی بولی میں سندھی ، پنجابی اور دیگر کئی مقامی زبانوں کی طرح ” ن“ کی آواز آئے تو اس کے ساتھ عام طور پر ” ڑ “ کا اشتراک کیا جاتا ہے لیکن اگر ”ن“ کسی لفظ کے شروع میں آئے تو خالص ”ن“ کی آواز پیدا کرتا ہے۔سندھی زبان کی طرح میانوالی کے لوگ بھی کئی الفاظ کے آخری حرف کو حرکت سے ادا کرتے ہیں۔
میانی بولی کا لسانی محلِ وقوع خاصا منفرد ہے میانوالی کا محلِ وقوع ایسا ہے کہ اِس کے ساتھ ملحقہ علاقوں کے لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ضلع میانوالی کے شمال مشرق کی طرف ضلع اٹک ہے جہاں چھاچھی اور گھیبی لہجہ بولا جاتا ہے۔نیزاٹک میں ہندکو کے اثرت بھی ہیں ۔شمال کی جانب واقع ضلع کوہاٹ میں پشتو اور ہندکو بولی جاتی ہے۔ ضلع میانوالی کے مشرق میں ضلع چکوال ہے جہاں دھنی لہجہ بولا جاتا ہے۔مغرب کی سمت میں ضلع کرک، بنوں، ڈیرہ اسمائیل خان ہیں جہاں پر پشتو اور ہندکو بولی جاتی ہیں۔شمال مشرق کی سمت میں ضلع خوشاب ہے جہاں شاہپوری لہجہ بولا جاتا ہے۔میانوالی کے شمال میں ضلع بھکرواقع ہے جہاں پر تھلی /تھلوچڑی لہجہ بولا جاتا ہے۔ ضلع میانوالی کے اردگرد کے لہجوں اور زبانوں کے اثرات میانوالی کی بولی میں موجود ہیں۔ انسانی گفتگو کے انداز پر بھی بعض عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر مختلف اقوام کا جغرافیائی اتصال ان کے اندازِگفتگو کوباہم متاثر کرتا ہے۔میانوالی کے جنوب کی طرف کے لوگوں کے اندازِ گفتگو میں انکساری نظر آتی ہے جب کہ میانوالی سے ملحق پشتو بولنے والوں کا انداز ِ گفتگو عام طور پرجارحانہ ہوتا ہے۔اسی طرح پنجابی بولنے والوں کے اندازِ گفتگو میں قطعیت کا عنصر نظر آتا ہے۔میانوالی کے لوگوں کےاندازِ گفتگو میں متصلہ علاقوں کے اثرات نظر آتے ہیں جس کے سبب لفظوں کی ادائیگی پر بھی کسی حد تک اثر پڑا ہے۔ جغرافیائی قرب و اتصال کے علاوہ انسانی پیشے بھی اندازِ گفتگو اور لفظوں کی ادائیگی کو متاثر کرتے ہیں۔ پولیس اور فوج کے شعبے سے وابستہ لوگوں کا اندازِ گفتگو جارحانہ اور تحمکانہ ہوتاہے جبکہ ایک تاجر یا کاروباری انسان نرمی سے بات کرتا ہے۔میانوالی کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد فوج اور پولیس میں کام کرتی ہے جس کے اثرات میانوالی کی بولی میں نظر آتے ہیں۔لغوی اشتراک کی وجہ سے گردونواح کی بولیاں بولنے والوں کو یہی تاثر ملتا ہے کہ میانوالی کے لوگ اُن ہی کی بولی بولتے ہیں۔ میانوالی کے لوگ بھی چوں کہ گردونواح کی بولیوں کو سمجھ لیتے ہیں اس لئے خوداہلِ میانوالی بھی متذبذب ہیں کہ میانی بولی کس زبان کے کس لہجے کے زیادہ قریب ہے۔اس تذبذب کا اظہار گزشتہ دو مردم شماریوں میں بھی ہوتا ہے۔1998ءمیں ہونے والی مردم شماری کے مطابق 74.4فیصد لوگوں نے اپنی بولی کو پنجابی اور 12 فیصد لوگوں نے اپنی بولی کو سرائیکی کہا ہے۔2017ء کی مردم شماری کے مطابق پنجابی اور سرائیکی کے اعدادوشمار 1998ء کی مردم شماری کےبالکل برعکس ہیں۔ضلع میانوالی کے اردگرد کے اضلاع کی زبانوں اور لہجوں کے اثرات میانی بولی پرموجود ہیں۔ ضلع میانوالی سے متصلہ علاقوں کی زبانوں اور لہجوں کا رنگ میانی بولی میں نظر آتا ہے۔میانوالی میں مقامی طور پر سارے ضلع کے لوگ ایک ہی طرح سے نہیں بولتے بلکہ یہاں دیگر زبانوں اور لہجوں سے جغرافیائی اتصال کی وجہ سے میانی بولی کے مزید ذیلی لہجے موجود ہیں۔میانوالی سے تلہ گنگ روڈ پر کوہستان نمک کے مشرق میں ضلع میانوالی کی جو یونین کونسلز(چکڑالہ، نمل، تھمے والی اور بن حافظ جی) ہیں وہاں کے لوگوں کی بولی پر دھنی لہجے کے اثرات نمایاں ہیں۔میانوالی سے جنوب مشرق کی سمت سرگودھا روڈ پر آباد شادیہ وغیرہ کے علاقے کے لوگوں کے لہجے پر کسی حد تک شاہپوری لہجے کے اثرات محسوس ہوتےہیں۔ میانوالی کے جنوب میں بھکر کی سمت پپلاں کےگردو نواح میں تھلی/تھلوچڑی لہجے کا اثر نمایاں ہے۔ میانوالی شہر سے شمال کی طرف موچھ، پائی خیل ، داؤد خیل، کالاباغ ، کمر مشانی اور عیسیٰ خیل کی طرف کے لوگوں کے لہجے میں بھی تھوڑا بہت تغیر موجودہے۔ میانی بولی کے الفاظ، محاورات، ضرب الامثال اور گرائمر پر ایک بھرپور تحقیق کی ضرورت ہے۔راقم 2010 کے بعد سے میانی بولی پر یہ تحقیقی کام کرنے میں مصروف ہے اور بشرطِ زندگی اور بشرطِ استطاعت اسے پایۂِ تکمیل تک پہنچائے گا۔ میانوالی کا خطہ برصغیر کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں زمانۂِ قدیم سے انسان آباد تھے۔گردو نواح کے دیگر علاقوں کی طرح میانوالی کے موجودہ خطے پر بھی سمندر تھا ۔آج بھی یہاں کوہستانِ نمک میں سمندری پودوں اورجانوروں کےفاسلزکثرت سے دستیاب ہیں۔ سمندر کے ساحل وقت کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف ہٹتےگئے اور کوہ ہمالیہ کی پگھلتی ہوئی برف نےدریاؤں کی صورت اختیار کر لی۔برصغیر کا سب سے بڑا دریا ،دریائے سندھ ہے۔ میانوالی اس مقام پر آباد ہے جہاں دریائے سندھ پہاڑوں سے نکل کر میدانی علاقوں میں داخل ہوتا ہے۔ مؤرخین کے مطابق برصغیر کی قدیم ترین انسانی آبادیاں دریائے سندھ کے کنارے آباد ہوئیں لیکن مؤرخین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ سمندر ہٹنے کے بعد دریائے سندھ کے کناروں پر آباد ہونے والے یہ لوگ کہاں سے نقل مکانی کر کے یہاں آئے۔ معلوم تاریخ کےمطابق دریائے سندھ کے کناروں پر منڈا قبائل ( کول ، بھیل، سنتھال وغیرہ ) آباد تھے۔ منڈا قبائل کے بعد یہاں دراوڑ قبائل کی آمد ہوئی۔ دراوڑ ں نے دریائے سندھ کے کناروں پر قبضہ جمایا اور ایک طویل عرصے تک یہاں آباد رہے۔ انھوں نے یہاں سے جنگلات کاٹ کر قابلِ کاشت زمین تیار کی۔جنگلات کاٹنے سے جو لکڑی دستیاب ہوئی اس سے پختہ اینٹیں بنانے کا کام لیا گیا اور پختہ اینٹوں سے تعمیرات کا رجحان پیدا ہوا۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو دراوڑوں کے پختہ اینٹوں سے تعمیر کیے گئے کئی شہروں (موئن جوداڑو، ہڑپہ کوٹ دیجی وغیرہ) کے آثار دستیاب ہوئے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں دراوڑوں کے آباد کردہ یہ شہر تقریباً پانچ ہزار سال قدیم ہیں۔ دراوڑوں کے بعد یہاں پر آریا آئے۔ آریاؤں کی آمد تقریباً 3000 قبل مسیح سے 1500 قبل مسیح کے درمیان ہوئی۔آریاؤں کی کتاب ”رگ وید“ میں میانوالی کے علاقہ ”کنڈل“ کا ذکر موجود ہے۔کنڈل کے مقام پر دریا کی وجہ سے آریاؤں کو رکنا پڑاتھا۔آریاؤں کی ویدی زبان کےلفظ ”سنھ “ سےاس دریا کا نام ”سندھ“ پڑا۔ میانی بولی میں بھی ”سنھ“کا مطلب ” گیلاپن “ ہے۔ آریائی زبان بولنے والوں میں سے کچھ قبائل میں ”س“ اور ”ہ“ باہم بدل جاتی ہیں جس سے ”سندھ“ اور ”ہند“ کے الفاظ وضع ہوئے۔ یہاں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جب آریاؤں کا واسطہ دریا کے پانیوں سے پڑا تو یہیں میانوالی میں ہی ”سندھ“ اور ”ہند“ کے الفاظ وضع ہوئے۔بعد ازاں ”سندھ“ کا لفظ ایک مخصوص دریا کے لیے مختص ہوا جب کہ ”ہند “ کا لفظ پورے خطے کے نام کے طور پر معروف ہوا۔ خطے میں آریاؤں کے زور پکڑنے کی وجہ سے دراوڑوں کی کثیر تعداد دریائے سندھ کے کناروں سے نقل مکانی کر گئی۔ صوبہ بلوچستان کے براہوی اور ہندوستان کے تامل اور تلگو وغیرہ دراوڑ ہی ہیں۔ آریاؤں کے بعد سکندر اعظم کی یونانی افواج نے یہاں کچھ فتوحات حاصل کیں لیکن برصغیر میں زیادہ دیر نہ رک سکے۔ ظہورِ اسلام سے قبل ایرانی بھی برصغیر کے متصل علاقوں پر قابض رہے۔ ظہورِ اسلام کے بعد 712ء میں محمد بن قاسم نے دیبل سے ملتان تک کا علاقہ فتح کیا ۔ غزنی کے حاکم سبکتگین کے زمانے میں پنجاب کاحکمران راجہ جے پال تھا۔ سبکتگین سے راجہ جے پال کی افواج نےجنگ کی لیکن اس جنگ میں راجہ جے پال کی فوج کو شکست ہوئی اور پشاور تک کا علاقہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ سبکتگین کی وفات کے بعد 997ء میں اس کا بیٹا اسمائیل غزنوی حکمران بنا لیکن تقریباً دو سال بعد اسمائیل غزنوی کے بھائی محمود غزنوی نے اپنے بھائی کے خلاف بغاوت کر کےحکومت سنبھال لی۔ راجہ جے پال نے محمود غزنوی سے جنگ کی لیکن ایک مرتبہ پھر وہ شکست کھا گیا ۔ اس جنگ میں غزنوی افواج نےبلوٹ کا قلعہ مسمار کر دیا اور راجہ جے پال کے مزید علاقے اپنے قبضے میں لے لیے ۔محمود غزنوی کی اس فتح کے بعد مفتوحہ علاقوں کے لوگ غزنوی افواج سے خوف زدہ ہو گئےجس کی وجہ سے بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان اور میانوالی کے علاقوں سے بہت سے ہندو نقل مکانی کر کے مشرق کی طرف چلے گئے۔اس شکست کے صدمے میں راجہ جے پال نے لاہور واپس جاکر حکومت اپنے بیٹے انندپال کے حوالے کر کے خود سوزی کر لی۔ میانوالی کی موجودہ ثقافت پر محمود غزنوی دور کے گہرے اثرات موجود ہیں۔محمود غزنوی کےبعد 1090 میں قطب شاہ کی حکومت قائم ہوئی ۔ قطب شاہ اور اس کے بیٹوں کے ادوار میں میانوالی کے اعوان قبائل یہاں آبادہوئے اس لیے انھیں قطب شاہی اعوان بھی کہا جاتا ہے۔سلاطینِ دہلی کے بعد یہاں مغل آئے۔ بعض روایات کے مطابق سولھویں صدی عیسوی کے تیسرے عشرے میں مغل خاندان کے پہلے بادشاہ ظہیرالدین بابر نے عیسیٰ خیل کے مقام پر اعوانوں اور نیازی قبائل کے ساتھ لڑائی لڑی تھی۔یاد رہے کہ ظہیر الدین بابر کی عیسیٰ خیل کے مقام پر ہونے والی لڑائی شیر شاہ سوری سے قبل کی ہے، گویا نیازی قبائل اس خطے میں شیر شاہ سوری سے قبل موجود تھے۔فرید خان المعروف شیر شاہ سوری نے مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر کےبیٹے ہمایوں کو شکست دے کر حکومت سنبھالی۔ شیر شاہ سوری نے 17 مئی 1540ء سے 22 مئی 1540ء تک حکومت کی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میانوالی کے نیازی قبائل صرف شیر شاہ سوری کے ساتھ اِس خطے میں نہیں آئے بلکہ یہ لوگ غالباً ابتدائی طورپر محمود غزنوی کے ساتھ بھی یہاں آئے تھے، ظہیر الدین بابر کے پوتے شہنشاہ اکبر کے زمانے میں شیخ جلال الدینؒ اپنے بیٹے میاں علیؒ کے ہمراہ بغداد سے تبلیغ کی غرض سے سندھ سے ہوتے ہوئے براستہ ملتان اِس خطے میں آئے۔ شیخ جلال الدین ؒنے کلور کوٹ کے مقام پر قیام کیا اور پھر اپنے بیٹے کو کلورکوٹ میں چھوڑ کر حج کے لیے چلے گئے۔ حج سے واپس آنے کے کچھ عرصہ بعد وہ اپنے شہر بغداد گئے اور وہیں بغداد میں وفات پائی۔ میاں علی ؒ اپنے والد کے بغداد جانے کے بعدکچھ عرصہ کلورکوٹ میں قیام پذیر رہے لیکن پھر وہاں سے دریائے سندھ کے مشرقی کنارے اس جگہ منتقل ہو گئےجہاں اس وقت میانوالی شہر موجود ہے۔شیخ جلال الدین ؒ اور ان کے بیٹے کی یہاں آمد چونکہ شہنشاہ اکبر کے دور میں ہوئی اور شہنشاہ اکبرنے 1556 ء سے1605ء تک حکومت کی ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ بزرگ سولھویں صدی عیسوی کے نصف دوئم میں یہاں آئے ۔ میانہ خاندان کے ان بزرگوں کی آمد کے وقت اِس خطے کو ”کچھی“ کہا جاتا تھا۔ کلور کوٹ سے نقل مکانی کے بعد میاں علی ؒ نےجس مقام پر قیام کیا وہاں ایک بستی آباد ہو گئی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بستی ایک بڑے شہر کا روپ اختیار کرتی چلی گئی اور اسے آج ”میاِں والی“کےنام سے پہچانا جاتا ہےمعروف صوفی بزرگ میاں سلطان زکریا ؒ اپنے والد میاں علی ؒ کے سجادہ نشیں تھے۔ میاں علی ؒ کی آمد کے زمانے میں یہ سارا خطہ ”کچھی “ کہلاتا تھا اور یہاں پر گکھڑوں کی عملداری تھی جوکہ دہلی کی حکومت کے اِس علاقے کے نمائندے تھے۔ جس زمانے میں میاں علیؒ یہاں آئے اس زمانے میں گکھڑ غیر مسلم تھےبعد میں بخارا سے آئے ہوئے سادات نے یہاں اسلام کی تبلیغ کی تو ہزاروں گکھڑمشرف بہ اسلام ہوئے۔نادرشاہ نے 1738 میں اس علاقے پر حملہ کیا اوروہ دو مہینے تک میانوالی میں رہا ۔بعد ازاں احمد شاہ ابدالی کے ایک جرنیل نے درانی افواج کے ساتھ 1748ء میں کالاباغ کے مقام پر دریائے سندھ عبور کیا اور میانوالی کے گکھڑ حکمرانوں کے شہر معظم نگر کو فتح کیا اور گکھڑوں کو یہاں سے نکال دیا ۔ احمد شاہ ابدالی کے جو سپاہی اس جنگ میں مارے گئے ان کی قبریں وانڈھی گھنڈ والی کے قبرستان میں موجود ہیں۔ گکھڑوں کی کچھ یادگاریں ابھی بھی میانوالی میں موجود ہیں۔شادیہ کا قصبہ میانوالی سے جنوب مشرق کی جانب 32 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ شادیہ گکھڑوں کے سردار ملک پیلو نے آباد کیا تھا ۔ اس نے وہاں ایک قلعہ بھی تعمیر کروایا۔ایک محل اور مسجدیں بنوائیں جو آج بھی بلند جگہ پر واقع ہیں۔ یہ شہر گکھڑوں کی،ثقافت وتہذیب کا گہوارہ تھا۔ ہرنولی کا قصبہ بھی ماضی میں گکھڑوں کے زیر تسلط تھا مگر گکھڑوں کی آپس کی خانہ جنگی میں چدھڑ اور جاٹ قبائل نے گکھڑوں کو بے دخل کر دیا۔ کندیاں شہر میانوالی سے ۱۵ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مغل عہد حکومت سے پہلے یہ علاقہ گکھڑوں کے زیرِ تسلط تھا۔ کندیاں سے گکھڑوں کو اعوانوں نے بے دخل کیاتھا۔ماڑی انڈس میانوالی کا تاریخی مقام ہے۔جہاں پہاڑ کی چوٹی پر گکھڑوں کے دور میں ایک چوکی تھی۔ یہاں آباد غیرمسلم گکھڑ قبائل میں سب سے پہلے بخارا سے آئے ہوئے سادات خاندان نے اسلام کی تبلیغ کی۔ سید محمود شاہ بخاریؒ ،محد نوریؒ اور عبدلوہابؒ کےبا برکت ہاتھوں نے ہزاروں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ دو پہاڑوں کے درمیاں، ککڑاں والہ وانڈہ کے نزدیک شاہ عبدلوہابؒ کا مزار ہے۔
مغل دور کے زوال کے بعد تقریباً1801 ء میں جب پنجاب پر سکھوں نے قبضہ کیا تو یہ علاقہ بھی راجہ رنجیت سنگھ کے زیرِ نگیں رہا۔ اس دور کو سکھا شاہی دور کہا جاتا ہے۔سکھوں کے دورِ حکومت میں موجودہ خیبر پختون خوا کا علاقہ بھی پنجاب کا حصہ تھا۔اس سارے علاقے پرتقریباً 1840 ء تک سکھوں کا راج رہا۔ سکھوں کے بعد یہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلط قائم ہوا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے کچھ عرصہ بعد یہ علاقہ تاجِ برطانیہ کے ماتحت آگیا۔ انگریزوں کے دورِ حکومت میں حکومتی انتظامات چلانے اور دیگر کچھ مقاصد کےلیےہندوستان کو صوبوں ، ڈوژنز ،ضلعوں اور تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا۔ 1868ء سے لے کر 9 نومبر 1901ء تک میانوالی کا علاقہ صوبہ پنجاب کے ڈیرہ اسمائیل خان ڈوژن کے ضلع بنوں کی تحصیل رہانومبر1901ءمیں صوبہ پنجاب کو تقسیم کرتے ہوئے ایک نیا صوبہ ” The North West Frontier Province“ یعنی ”شمال مشرقی سرحدی صوبہ“(موجودہ خیبر پختون خوا)بنایا گیا ۔صوبہ پنجاب کی اس تقسیم کے وقت تحصیل عیسیٰ خیل اور تحصیل میانوالی بدستور صوبہ پنجاب کا حصہ رہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کو نئےصوبے میں شامل کر دیا گیا۔ انگریز حکومت نےاسی موقع پر یعنی 9نومبر 1901 کے دن میانوالی کو ضلع کا درجہ دے کر راولپنڈی ڈوژن میں شامل کر دیا ۔اس نئے ضلع میں چار تحصیلیں :تحصیل میانوالی، تحصیل عیسیٰ خیل، تحصیل بھکر اور تحصیل لیہ شامل تھیں ۔بعد ازاں 1909ءمیں تحصیل لیہ کوضلع مظفر گڑھ میں شامل کردیا گیا۔ضلع میانوالی کوقیامِ پاکستان کے بعد بھی راولپنڈی ڈوژن میں شامل رکھا گیا۔ 1947ءمیں قیامِ پاکستان کے وقت ہونے والے فسادات کو میانوالی میں ” لوٹی “ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس فسادات اور لوٹ مار کے دوران کافی جانی نقصان بھی ہوا۔ان فسادات کے نتیجے میں ضلع میانوالی میں زمانۂِ قدیم سے آباد ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم یہاں سے ہجر ت کر کے ہندوستان چلے گئے۔میانوالی سے ہجرت کرنے والے ہندو اور سکھ خاندان اس وقت ہندوستان میں مختلف مقامات پر آباد ہیں۔دہلی کے نواح میں میانوالی سے ہجرت کرنے والوں نے ”میانوالی نگر“ قائم کیا ہے۔اس بستی کے اس نام سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہجرت کرنے والے میانوالی کے ان لوگوں کو اپنے آبائی علاقے سے کافی محبت ہے۔کئی بار اپنے آبائی علاقے کی محبت سے مجبور ہو کر ہجرت کرنے والے ہندو اور سکھ میانوالی کو دیکھنے یہاں آجاتے ہیں۔ ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے دیگر علاقوں کی طرح میانوالی کی آبادی میں بھی تبدیلی آئی۔ ہندوؤں اور سکھوں کے مظالم سےتنگ آکر ہندوستان میں شامل ہونے والے علاقوں کےمسلمان پاکستان کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمان خاندانوں کی ایک کثیر تعداد میانوالی میں بھی آباد ہے۔1960ءتک ضلع میانوالی کو راولپنڈی ڈویژن میں شامل رکھا گیا۔ 1960ءمیں اسلام آباد کے دارالحکومت بننے سے کچھ عرصہ قبل میانوالی کو راولپنڈی ڈوژن سےالگ کردیا گیا۔اسی سال تحصیل سرگودھا کو ڈویژن کا درجہ دے کر میانوالی کو سرگودھا ڈویژن میں شامل کیا گیا۔سرگودھا کی بنیاد 1903میں ایک انگریز خاتون لیڈی ٹروپر نے رکھی تھی۔لیڈی ٹروپر نےسرگودھا شہر کو ایک خاص نقشے اور ماسٹر پلان کے تحت بنوایا تھا۔1903سےقبل یہاں زیادہ آبادی نہیں تھی البتہ اس جگہ کو گودھا(سادھو)نام کےہندو کی سر (تالاب، ٹوبہ) کی وجہ سےسرگودھا کہا جاتا تھا۔بعد ازاں یکم جولائی 1982کومیانوالی کی تحصیل بھکر کو ضلع میانوالی سے الگ کرکےاسے ضلع کا درجہ دیاگیا۔اِس وقت میانوالی کا ضلع تحصیل میانوالی، تحصیل عیسیٰ خیل اور تحصیل پپلاں پر مشتمل ہے۔میانوالی کے سیاحتی مقامات میں کوہستانِ نمک، چشمہ بیراج، جناح بیراج اور نمل جھیل وغیرہ شامل ہیں۔ وہ مقام بھی میانوالی میں شامل ہے جہاں پر کالاباغ ڈیم بنانے کی بحث چل رہی ہے ۔چشمہ اور جناح بیراج کے مقامات پر ایٹمی بجلی بنانے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔جبکہ جناح بیراج سے تھل کینال نکلتی ہے جو صحرائے تھل کے علاقوں کو سیراب کرتی ہے۔جغرافیائی لحاظ سےجائزہ لیا جائےتو اِس ضلع میں پہاڑ بھی ہیں میدان بھی ہیں اور صحرا بھی ہیں۔ضلع میانوالی کے درمیان سے دریائے سندھ گذرتا ہے۔میانوالی کی تین تحصیلیں ہیں جن میں تحصیل میانوالی کا بیشتر حصہ میدانی علاقوں پر مشتمل ہےجبکہ اس تحصیل کےمشرقی حصوں میں کوہستانِ نمک کے پہاڑ ہیں۔ کوہستانِ نمک کے مشرق میں واقع میانوالی کا علاقہ سطح مرتفع پوٹھو ہار پر مشتمل ہے۔تحصیل عیسیٰ خیل میانوالی کے صدرمقام سے شمال کی جانب واقع ہے۔اِ س تحصیل کا بیشتر علاقہ دریائے سندھ کے مغرب میں واقع ہے۔اِس تحصیل میں کچھ میدانی علاقے بھی ہیں اور کچھ علاقے پہاڑوں پر مشتمل ہیں۔تحصیل پپلاں میانوالی کی تیسری تحصیل ہے۔ یہ تحصیل میانوالی کےصدر مقام سےجنوب کی جانب واقع ہے۔اِس تحصیل کا بیشتر علاقہ ریگستانی ہے اور یہیں صحرائے تھل کا شمالی کنارا ہے۔تاریخی لحاظ سے میانوالی کی ادبی شخصیات میں تلوک چند (ہندوستان کے معروف اردو شاعرجو میانوالی کے قبیلہ ”تلوکر“سےتعلق رکھتے تھے، ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد(اردو شاعر) اور یحییٰ امجد کے نام قابلِ ذکر ہیں۔کچھ تذکروں میں1933 میں موسیٰ خیل میں پیدا ہونے والےایک شاعر مہر گیرہ کا ذکر بھی ملتاہے جس نے ”پرکار“ اور”لمحوں کا عکس “ کےنام سے شعری مجموعے تخلیق کیے (بحوالہ ”حرفِ تحسین“ از مظہر نیازی)۔ بعد ازاں مولانا کوثر نیازی، ڈاکٹر اجمل نیازی،شرر صہبائی پروفیسرڈاکٹر غفور شاہ قاسم، پروفیسر سلیم احسن، فاروق روکھڑی اور پروفیسر منورعلی ملک، علی اعظم بخاری، منصور آفاق ، مظہر نیازی اور محمود احمد ہاشمی نے ادب کے میدان میں کافی کام کیا۔شعر و ادب کےحوالے سے میانوالی کی سرزمین خاصی زرخیز ہے اور مکمل ادبی منظر نامہ پیش کرنے کے لیے یہ صفحات ناکافی ہیں۔موسیقی کے شعبہ میں معروف فلمی۔ موسیقار خواجہ خورشید انور، لوک گلوکارعطااللہ خان عیسیٰ خیلوی، ناہید نیازی اور ریشماں کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔میانوالی کی اہم سیاسی شخصیات کا جائزہ لیا جائےتو تحریکِ پاکستان اور بعد کی سیاست میں مزہبی و قومی سیاست میں مولانا عبد الستارخان نیازی (جمیعت علما ءپاکستان ) کا کردار خاصا اہم نظر آتا ہے۔جبکہ لیفٹ کی سیاست میں مزدور کسان تحریک کے بانی ملک دوست محمد بھچر مرحوم اور بغوچی محاذ کالا باغ کے قاضی امیر عبداللہ خان بھی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں ۔ان کے علاوہ ماضی میں امیر محمدخان نواب آف کالاباغ (فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور کےگورنر مغربی پاکستان) اور امیر عبداللہ خان روکھڑی اور ڈاکٹر شیر افگن خان کےنام بھی نمایاں ہیں۔موجودہ دورمیں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی،عمران خان( سابق وزیر اعظم پاکستان ) میانوالی کے نمایاں سیاستدان ہیں۔ کھیلوں کے میدان میں عمران خان،مصباح الحق اور شاداب خان نےکرکٹ جبکہ طارق نیازی نے ہاکی میں عالمی سطح پر اپنا کھیل پیش کیا۔محمد خان اعوان آف نواں نے والی بال کے کھیل میں پاکستان کی قومی ٹیم میں جگہ پائی اور نام کمایا۔میانوالی کے لوگوں کا پس ِ منظر دیکھا جائےتو میانوالی کی بیشتر آبادی نیازی قبیلے کے پٹھانوں پر مشتمل ہے جو افغانستان سے آکر یہاں آباد ہوئے۔تاہم ضلع میانوالی میں اعوان، بھچر ،جوئیہ،جاٹ اور کچھ دیگر قبائل بھی آباد ہیں۔قیامِ پاکستان سے قبل موجودہ قبائل کے ساتھ ساتھ یہاں ہندو اورسکھ بھی آباد تھے جبکہ قیامِ پاکستان کے بعد ہندوستان سےآنے والےمسلمان مہاجرین کی بھی ایک بڑی تعداد میانوالی میں آباد ہے، میانوالی میں وہ لوگ بھی آباد ہیں جنہوں نے قیامِ پاکستان سے کچھ عرصہ قبل یا قیامِ پاکستان کے فوراََ بعد اسلام قبول کر لیا اور تقسیم ِ ہند کے بعداپنے رشتے داروں کے ساتھ بھارت جانے کی بجائے پاکستان میں آباد رہے۔میانوالی کے جن علاقوں میں پٹھان قبائل آباد ہیں وہاں پر عموماََ آبادیوں کے نام کے ساتھ خیل کا لاحقہ لگایا جاتا ہے۔مثلاََ عیسیٰ خیل ،موسیٰ خیل، داؤدخیل پائی خیل وغیرہ۔ ”خیل“ کا لفظ پشتو کےلفظ ”کلی/کڑی“کی ایک شکل ہے جس کےمعنی آبادی یا گروہ کے ہیں لیکن اس لفظ کے کچھ دیگر پہلو بھی ہیں۔ منڈاری زبان میں اضافی بستی کو ”کیل“کہتے ہیں جیسے ”اوری کیل“اور”سمبو کیل“ وغیرہ کےنام سے منڈا قبائل کی بستیاں تھیں۔دراوڑی گروہ کی تامل زبان میں کیل کا مطلب رشتہ داری ہے۔ کناری زبان میں”کیلے“ کا مطلب بھائی چارہ یا گروہ بندی لیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں یہی لفظ ”کھالی“ ہے جیسے ”نوا کھالی“اور ”جوہا کھالی“وغیرہ ۔ہندوؤں اور سکھوں کے حوالے سے کئی مقامات اور شہروں کے نام اب بھی موجود ہیں۔ان مقامات اور شہروں میں” چکڑالہ“نام کا ایک چھوٹا سا شہر ہندوؤں کے”چکڑ“ قبیلے کا مسکن تھا جو اب اس علاقہ سے ہجرت کر کے ہندوستان جا چکےہیں۔ میانوالی شہر کا ایک معروف تجارتی مرکز”گرو بازار“کہلاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس بازار کا نام مسلم بازار تجویز کیا گیا مگر اس کا پرانا نام اب بھی مستعمل ہے۔میانوالی شہر میں ایک محلہ” محلہ گؤشالہ “ کے نام سےجانا جاتا ہے۔ضلع میانوالی کی کئی بستیوں اور قبائل کے نام ایسے بھی ہیں جن کی وجہ تسمیہ کا کسی کوعلم نہیں مثلاََ چھدرُو، مرمنڈی، موچھ ، روکھڑی، رِکھی، ڈُھرنکہ وغیرہ۔تاریخی اعتبار سے میانوالی کا محل وقوع خاصا اہم ہے۔ ڈاکٹرمہر عبدالحق نے اپنی کتاب ” The Somras“ میں میانوالی کےعلاقہ پپلاں کو چندر گپت موریا کی جنم بھومی قرار دیا ہے۔ میانوالی میں بدھ مت اور گندھارا تہذیب کے آثار بھی موجود ہیں۔میانوالی کے صدر مقام سے دس کلومیٹر شمال میں دریائے سندھ کے کنارے روکھڑی کے مقام پر سے بارشوں نے مٹی ہٹائی تو سٹوپے ،مجسمے ،30 فٹ بلند مینار اور آبادی کے آثار برآمد ہوئے۔شمال مغرب کی طرف سے پنجاب اور دیگر ہندوستانی علاقوں کی طرف جانے والے بہت سے حملہ آور لشکروں اور قافلوں کے لئے میانوالی ایک آسان اور مختصر راستہ تھا اس لیے بہت سے حملہ آور اور تجارتی قافلے میانوالی سے گزرتے رہے۔ دراوڑوں ، آریاؤں ، مغلوں اور غزنویوں کے لئے بنوں سے میانوالی ایک آسان گذر گاہ تھی اور یہ لوگ میانوالی سے گذر کر ہندوستان میں وارد ہوئے۔میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے صدر مقام سے 10کلو میٹر فاصلے پر ایک مقام "کنڈل" موجود ہے جس سے آریاؤں کی کچھ روایات منسوب ہیں۔محمود غزنوی نے ہندوستان پر اپنے حملوں کے لئے میانوالی کا نہ صرف راستہ اپنایا بلکہ کوہستانِ نمک کے دامن میں پانی کی ایک گذر گاہ کے کنارے قیام بھی رکھا۔ اس مقام پر محمود غزنوی کے بہت سے ساتھیوں کی قبریں اب بھی موجود ہیں۔ میانوالی میں شیر شاہ سوری کی 55فٹ چوڑی جرنیلی سڑک کے آثار باقی ہیں۔ میانوالی شہر سے 20کلو میٹر جنوب مشرق میں واں بھچراں کے مقام پر شیر شاہ سوری کا بنایا ہوا ایک ایسا کنواں بھی موجود ہے جس کے کنارے پر ایسی ڈھلوان سطح بنائی گئی تھی کہ پانی تک گھوڑے ہاتھی براہِ راست پہنچ سکتےتھے۔ اس کنوئیں کو "واں"کہتے تھے۔ اس کوئیں کےقریب ”بھچرقبیلہ“ آباد ہےاس مناسبت سے اب اس چھوٹے سے شہر کو "واں بھچراں"کہا جاتا ہے۔ ضلع میانوالی کی اکثر آبادی کو محمود غزنوی اور شیر شاہ سوری کے ساتھ آنے والے لشکری خیال کیا جاتا ہے۔ میانی بولی کے لحاظ سے یہ پہلو اہم ہے کہ مختلف زبانیں بولنے والی اقوام کے یہاں سے گزرنے اور قیام کرنے سےمیانی بولی پر ان کی زبانوں کے اثرات بھی قائم ہوئے ہیں
تحریر نامعلوم

ہمارے محلہ کا ایک قیمتی سرمایہ ۔  ماشاءاللہ
23/11/2023

ہمارے محلہ کا ایک قیمتی سرمایہ ۔ ماشاءاللہ

Address

Sabazar
Lahore
54500

Telephone

00923027974988

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Aadil Goods transport Coملک عادل گڈز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Malik Aadil Goods transport Coملک عادل گڈز:

Share