29/06/2026
کربلا میں روز عاشور یزیدی فوج کے سپہ سالار عمر بن سعد لعین پر براہ راست صرف ایک انتہائی خطرناک حملہ ہوا جس میں وہ بچ نکلا۔ یہ واحد حملہ کرنے والا کوئی جنگجو نہیں بلکہ دو معصوم بچے تھے۔ عون و محمد۔
بڑے کی عمر تیرہ سال تھی اور چھوٹے کی گیارہ سال۔
یہ وہ ہیں جنہیں قتل کرنے کے بعد یزیدی فوج نے خوشی کے شادیانے بجائے تھے۔
باجے والوں کی صدا زیرِ قنات آتی ہے
کیسے لاشے میرے بچوں کی بارات آتی ہے۔
حسین جب مدینہ سے روانہ ہوئے تو زینب عالیہ کے شوہر عبداللہ ابن جعفر طیار آئے۔
'آقا میں زینب سے علیحدگی میں کوئی بات کرنا چاہتا ہوں۔'
حسین نے کہا تمہاری عزت افزائی کا شکریہ ۔ تمہاری بیوی ہے۔ ضرور کرو۔
خاوند بیوی سے مخاطب ہوا۔
'حسین سے میرے دو رشتے ہیں۔ دنیاوی رشتے میں میرا بھائی ہے۔ دینی رشتے میں میرا امام ہے اور جب امام پر مشکل وقت آجائے تو رعیت پر لازم ہے وہ سب سے قیمتی شے کا صدقہ دیا کرتی ہے۔'
بیوی نے کہا
جانتی ہوں عرب کے بڑے تاجر ہو۔ لیکن ایسا کون سا بیش قیمت مال تمہارے ہاتھ آیا ہے جسے تم میرے بھائی کا صدقہ اتار سکو؟ کیا کوئی ایسا مال تمہارے پاس ہے؟
عبداللہ ابن جعفر طیار پرنم آنکھوں سے گویا ہوئے
مال میں تو ایسا کچھ نہ تھا۔ دو بیٹے ہیں۔ ایک کو میری طرف سے صدقہ کردینا دوسرے کو اپنی طرف سے۔
نو محرم کو جب حسین نے ایک دن کی مہلت مانگی تو شب عاشور سب کو معلوم تھا کہ صبح کیا ہوگا۔
علی کی بیٹی زینب نے دونوں بیٹوں کو خیمے میں بلایا۔ ان کو تیار کیا۔ دونوں کے کپڑے نکالے ۔
عون کل کے دن تم یہ پہننا۔ محمد تمہیں یہ اچھا لگے گا۔
ایک دم سنجیدہ ہو کر بولیں
عون تم بڑے ہو۔ تمہاری دگنی ذمہ داری ہے۔ دونوں میری بات دھیان سے سنو۔
مجھ سے تین باتوں کا وعدہ کرو۔
اول۔ اگر دریا کے قریب پہنچ جاؤ تو خبردار پانی پینے کا خیال بھی اپنے دل میں مت لانا۔حسین کے بچے پیاسے ہیں۔
دوم ۔ ایسے لڑنا کہ دشمن چکرا جائے۔ تمہیں عمر بن سعد تک پہنچنا ہے۔ بولو پہنچ کر دکھاؤ گے ناں؟ وعدہ کرو اپنی ماں سے ۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور یک زبان ہو کر وعدہ کیا۔
اب گھر میں آئیو تو وغا کرکے آئیو
سر لے کے ابن سعد کا ، یا مر کے آئیو
اور آخری بات۔
اگر چوٹ لگ کر گرنے لگو تو اپنے ماموں کو مدد کے لئے مت بلانا۔ بہت تھک گیا ہے۔ اور ہاں تمہاری لاش یہاں میدان جنگ میں آس پاس نہیں گرنی چاہیئے۔
عاشور کی صبح سے دوپہر پوگئی۔ دونوں بچے مُڑ پھر کر حسین کے سامنے آجاتے اور پنجوں کے بل کھڑے ہوجاتے کہ ہم ماموں کو چھوٹے نہ لگیں۔
ایک کے بعد ایک فدائی جانے لگا۔ عون و محمد ہر ایک کے جانے پر پوچھتے ماموں اب ہم جائیں گے۔اب ہماری باری۔ گویا کوئی کھیل ہورہا ہے۔ حسین کبھی کوئی حیلہ کرکے ٹال دیتے کبھی کوئی بہانہ.
بچے افسردہ ہوکر واپس خیمے میں گئے۔ ماں نے منہ پھیر کر پوچھا۔
ابھی تک نہیں گئے؟
ماموں جانے نہیں دیتا۔
زینب نے حسین سے پوچھا تو فرمانے لگے کیسے ان بچوں کو مرنے کی اجازت دے دوں؟
بہن نے کہا آپ کو میرے حق کا واسطہ ہے۔ انہیں جانے دیجے۔
اور موت کے اس کھیل میں عون و محمد کی باری آگئی۔
ایک کو حسین نے سوار کرایا دوسرے کو عباس نے۔
بچوں کے پیر رقابوں تک بھی نہ پہنچتے تھے۔ زین کو کاٹ کر چھوٹا کیا گیا۔
عباس نے دونوں سے پوچھا جو کچھ سکھایا ہے سب یاد ہے ناں؟ آگے کیسے بڑھتے ہیں؟ اور وہ آخری داؤ؟
ماموں میں بتاؤں؟
چھوٹے نے ہاتھ کھڑا کیا۔
نہیں ماموں میں بتاؤں گا۔ بڑے نے چھوٹے کے ہونٹ پر انگلی رکھ کر کہا۔
عباس نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا اور سامنے آگ برساتے سورج کے نیچے لاکھوں کے یزیدی لشکر کو دیکھ کر یک لخت متین ہوکر بولے ۔
مجھے نہیں ۔( یزیدی فوج کی طرف اشارہ کرکے ) اس غلاظت کے ڈھیر کو جا کر بتادو۔
عباسِ جری کے شاگرد میدان کارزار میں آئے۔ اللہ اکبر۔
جزیرہ نما عرب میں جنگ کے میدان میں فوج کی چار صف بندیاں ہوتی تھیں۔
المقدمہ : ہر اول دستہ۔ جسے فرنٹ لائن کہتے ہیں۔
المیمنہ: دائیں طرف کے بھاری دستے۔
المیسرة : بائیں اطراف کے بھاری دستے
القلب : فوج کا عین درمیان جہاں سپہ سالار اور اعلی عہدیداران ہوتے تھے۔
پلک جھپکنے میں پہلی صفوں میں سے سامنے آنے والوں کو دھرتی کا پیوند کیا۔
بڑے نے چھوٹے سے کہا
میں میمنہ کو سنبھالتا ہوں ۔ تم میسرہ سے نمٹو۔ ہم قلب لشکر پر ملیں گے۔ تمہیں اماں سے کیا گیا وعدہ یاد ہے ناں؟
کشتوں کے پشتے لگاتے ہوئے دونوں بھائی گیارہ میل دور قلب لشکر میں پسرِ سعد غلیظ کے سر پر جا پہنچے۔
نامی جوان بھاگ گئے شام و روم کے
خیمے پہ جا پڑے پسرِ سعد شوم کے
اور دونوں نے بیک وقت اس پر انتہائی خطرناک حملہ کیا جس سے وہ بال بال بچ نکلا۔ دونوں اسے غچہ دے کر لشکر کے حلقے سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوگئے اور لڑتے لڑتے فرات کے عین کنارے پر آگئے۔
تم کیوں کہو کہ لال خدا کے ولی کے ہو
فوجیں پکار اٹھیں کہ نواسے علی کے ہو
ایسی جنگ کی کہ دشمن کہتا تھا یہ تو علی کی طرح وار کرتے ہیں۔عمر بن سعد بوکھلایا ہوا تھا۔ اور چیخ چیخ کر فوجیوں کو ہدایات دیتا تھا۔
یزیدیوں میں سے ایک مغلظ کی آواز آئی۔ تم یہاں لڑتے ہو وہاں تمہاری ماں کے سر سے چادر چھن گئی۔
گڑبڑا کر دونوں جو مڑنے لگے تو چاروں طرف سے نیزوں ، تیروں ، بھالوں اور برچھیوں کی برسات ہونے لگی۔
کون پہلے گرا روایات میں اختلاف ہے۔ مگر ایک روایت متواتر و مصدق ہے۔ جس پر مقتل الحسین کے ابو مخنف سے لے کر ترمذی اور مسند احمد تک سب متفق ہیں۔
دونوں بچوں کی آواز آئی۔ ماموں خدا حافظ۔ آخری سلام قبول ہو۔
حسین و عباس نے گھوڑے دوڑائے۔ ایک کی روح پرواز کر چکی تھی۔ دوسرے میں چند سانسیں باقی تھیں۔
اس نے عباس کو دیکھ کر کہا ماموں ماموں ۔ جو آپ نے سکھایا تھا ویسے ہی اس لعین پر حملہ کر دیا تھا مگر انہوں نے ہماری ماں کا نام لے کر ہمیں دھوکے سے مارا۔
پھر حسین کی طرف دیکھ کر مرنے سے پہلے آخری جملے کہے ۔
ماموں ! اماں کو کہنا بہت سخت پیاس لگی تھی لیکن ہم دونوں میں سے کسی نے بھی دریا سے پانی نہیں پیا۔
دنیا سے وقتِ کوچ بھی دونو کا ساتھ ہے
گردن میں ایک بھائی کے بھائی کا ہاتھ ہے
محمدعلی افضل۔