01/12/2025
لاہور ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قریبی رشتہ داروں (والدین، اولاد، میاں بیوی وغیرہ) کے درمیان دیا گیا گفٹ اگر بینکنگ چینل کے بغیر بھی ہو، تو اسے خود بخود ٹیکس ایبل Income نہیں سمجھا جا سکتا۔ محکمہ کا مؤقف یہ تھا کہ قانون کے مطابق غیر بینکنگ گفٹ لازماً “Income from Other Sources” بنتا ہے، مگر عدالت نے یہ مؤقف مسترد کر دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے شامل کی گئی دفعہ 39(1)(la) ایک فائدہ مند اور طریقہ کار سے متعلق ترمیم ہے، اس لیے یہ ماضی کے سالوں پر بھی لاگو ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رشتہ داروں سے ملنے والے تحائف کا سختی سے بینک چینل سے گزرنا ضروری نہیں، بلکہ ٹیکس دہندہ کو حق حاصل ہے کہ وہ ثبوت اور وضاحت کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ رقم واقعی تحفہ تھی۔
تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ:
✔ گفٹ کی حقیقت ثابت کرنا ابھی بھی ضروری ہے
✔ ڈونر کی مالی حیثیت، نیت، دستاویزات اور ٹرانزیکشن کی سچائی ثابت کرنا لازم ہے
✔ محض زبانی دعویٰ کافی نہیں
چونکہ ٹربیونل نے گفٹ کے حوالے سے کوئی تفصیلی جانچ پڑتال نہیں کی تھی، اس لیے عدالت نے اس کے فیصلے کالعدم کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ بھیج دیا تاکہ تمام شواہد کی بنیاد پر یہ طے کیا جائے کہ واقعی گفٹ تھا یا نہیں
ٹیکس کے متعلق قانونی مشاورت کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں