Assan Tax

Assan Tax Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Assan Tax, Taxi service, karachi, Karachi.

08/08/2025
27/11/2024

ایف بی آر کا سادہ سا فارمولا ہے جس کے بارے میں معلومات ہونا ہر شہری کا حق ہے۔
ایف بی آر بولتا ہے، آپ نے ہر سال یکم جولائی سے 30 ستمبر تک اپنے گوشوارے جمع کروانے ہے۔
گوشوارے ہوتے کیا ہے، پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے،
گوشوارے میں ایف بی آر آپ سے تین چیزوں کی معلومات مانگتا ہے۔
1) آپ کی پورے سال کی آمدنی کتنی ہے
2) آپ نے پورے سال کتنا خرچ کیا
3) آپ کے پاس کتنے اثاثے ہیں
مثلاً
آپ نے پورا سال 200 روپے کمائے، 100 روپے خرچ کردیے، باقی 100 روپے آپ کا اثاثہ ہے۔
نوٹس کیون بھیجتا ہے ایف بی آر آپ کو:
1) آپ بولتے ہیں میں نے 100 روپے کمائے لیکن آپ کی بنک ٹرانزیکشن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے 500 روپے کمائے ہیں تو باقی آپ نے 400 روپے کیوں چھپائے۔
2) آپ نے 100 روپے خرچ کیے لیکن آپ نے اپنے اثاثے بڑھانے کے لیے بول دوں کہ 50 روپے خرچ کیے تو وہ آپ سے سوال کر سکتی ہے۔
3) آپ فائلر ہونے کے لیے 0 کے گوشوارے جمع کروا دیتے ہو تو یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ آپ ایک بندہ نا کچھ کماتا ہے، نا کھاتا اور نا ہی اثاثے ہیں تو یہ زندہ کیسے ہیں۔ تو وہ پوچھ سکتی ہیں۔
4) جب آپ اپنے پہلی دفعہ گوشوارے جمع کرواتے ہیں تو اپنے سارے اثاثے بتائے اب لوگ یہاں بھی غلطی کرتے ہیں کہ آپ کی آمدنی 20 روپے ہے، 15 روپے خرچہ ہے اور بول دیتے ہیں کہ میرے پاس 1000 روپے کے اثاثے ہیں تو ایف بی آر حیران ہوتی ہے کہ نا اتنی کمائی اور نا اتنی بچت تو اتنے اثاثے کہاں سے آئے۔
اس لیے اپنی ایک ایک چیز ڈیکلیئر کرے اور ایک اچھا شہری ہونے کا ثبوت دے اور خود کو ایف بی آر نوٹس سے بچائے۔

12/11/2024

All Rtos password recovery available

Contact inbox

12/11/2024

اگر آپ نے کوئی پراپرٹی کرایہ پر دی ہوئی ہے تو ٹیکس فائل کرنے سے پہلے سات طرح کے اخراجات کو اپنی کل آمدنی میں سے منہا کر سکتے ہیں، جس کے بعد جو رقم بچے گی، اسی پر آپ کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ پچھلے دو سالوں سے پراپرٹی انکم کو نارمل ٹیکس سلیب میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے، پراپرٹی انکم پر ٹیکس سیکشن 155 کے تحت ود ہولڈنگ کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ لیکن اب، رینٹل انکم کو بھی کاروباری آمدنی کی طرح شمار کیا جاتا ہے، جس طرح کاروبار میں سیلز سے پہلے اخراجات نکال کر پروفٹ نکالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، کاروبار میں ہم "Cost Of Sale" مائنس کرتے ہیں اور پھر "Gross Profit " حاصل ہوتا ہے، جس میں سے اخراجات منہا کرنے کے بعد "Profit Before Tax" آتا ہے، اور اس کے بعد ہی ٹیکس ریٹ لاگو ہوتا ہے۔

اسی طرح پراپرٹی انکم میں بھی ہمیں چند مخصوص کٹوتیوں کی اجازت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر سالانہ کرایہ 15 لاکھ روپے ہے، تو سب سے پہلے آپ کو 20 فیصد ریپیئر اور مینٹیننس کی مد میں کٹوتی کی اجازت ہے۔ اس طرح کے اخراجات کو سمجھنا اور اپنی آمدنی سے منہا کرنا ضروری ہے تاکہ آپ کا ٹیکس درست اور کم ہو۔
پراپرٹی انکم پر ٹیکس فائلنگ کرتے وقت سات طرح کے اخراجات کو ٹوٹل انکم میں سے مائنس کیا جا سکتا ہے۔ یہ اخراجات پراپرٹی کی دیکھ بھال، قانونی تقاضوں اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کو پورا کرنے کے لیے اجازت شدہ ہیں۔ آئیے، ان سات اخراجات کو تفصیل سے دیکھتے ہیں:

1. **ریپیئر اور مینٹیننس کا خرچ**
پراپرٹی کی دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات کو بھی رینٹل انکم میں سے کٹوتی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ آپ کل کرایہ کا 20% مرمت اور مینٹیننس کی مد میں منہا کر سکتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ کی رینٹل انکم 1.5 ملین روپے ہے تو اس کا 20% یعنی 3 لاکھ روپے ریپیئر اور مینٹیننس کے خرچ کے طور پر مائنس کیا جا سکتا ہے۔

2. **انشورنس پریمیم**
اگر آپ نے پراپرٹی کی حفاظت کے لیے کوئی انشورنس پالیسی لے رکھی ہے تو انشورنس پریمیم کو بھی رینٹل انکم سے مائنس کیا جا سکتا ہے۔ یہ کٹوتی پراپرٹی کی حفاظت کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا انشورنس پریمیم 1 لاکھ روپے ہے، تو یہ رقم بھی آپ کی کل رینٹل انکم سے منہا کی جا سکتی ہے۔

3. **پراپرٹی ٹیکس**
جو پراپرٹی ٹیکس آپ نے سال کے دوران پہلے ہی ادا کیا ہو، وہ بھی آپ کی رینٹل انکم سے مائنس کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ نے 50 ہزار روپے پراپرٹی ٹیکس ادا کیا ہے تو یہ رقم بھی ٹوٹل رینٹل انکم سے کٹوتی میں شامل ہو جائے گی۔

4. **بینک سود**
اگر آپ نے اپنی پراپرٹی خریدنے کے لیے یا کسی دوسری ضرورت کے تحت بینک سے قرض لیا ہو تو اس قرض پر دیا جانے والا سود بھی رینٹل انکم میں سے مائنس ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ بینک کو لون کی صورت میں ماہانہ سود دے رہے ہیں تو اس سود کی رقم کو بھی آپ رینٹل انکم سے کٹوتی کر سکتے ہیں۔

5. **لیگل اور ٹرانسفر اخراجات**
اگر کرایہ داری کے دوران پراپرٹی کی ملکیت یا کرایہ داری کی منتقلی کے لیے کسی قانونی تقاضے کو پورا کرنے کے اخراجات کیے گئے ہوں تو انہیں بھی آپ اپنی کل رینٹل انکم میں سے مائنس کر سکتے ہیں۔ اس میں ٹرانسفر فیس، قانونی فیس اور دیگر متعلقہ اخراجات شامل ہو سکتے ہیں۔

6. **متفرق اخراجات**
قانون کے مطابق آپ کچھ متفرق اخراجات کو بھی کٹوتی میں شامل کر سکتے ہیں، جو کہ کل رینٹل انکم کا 4% ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کی رینٹل انکم 1.5 ملین ہے، تو اس کا 4% یعنی 60 ہزار روپے کٹوتی میں شامل کیا جا سکتا ہے، جو غیر متوقع یا متفرق اخراجات کو کور کرنے کے لیے ہے۔

7. **اضافی ریپیئر اور مینٹیننس خرچ**
اگرچہ سسٹم 20% ریپیئر اور مینٹیننس الاؤنس فراہم کرتا ہے، مگر اگر آپ کی مرمت اور مینٹیننس کے اخراجات 20% سے زیادہ ہوں اور آپ نے اضافی مرمت کا کام کروایا ہو تو یہ اضافی خرچ بھی کل رینٹل انکم میں سے منہا کیا جا سکتا ہے۔

یہ تمام اخراجات آپ کی رینٹل انکم کو کم کرکے ٹیکس کو درست اور منصفانہ بنا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ درست فائلنگ آپ کو مالی نقصان سے بچا سکتی ہے۔
عموماً پراپرٹی انکم کی ٹیکس فائلنگ میں ایک سادہ اصول اپنایا جاتا ہے جس میں سسٹم ہمیں صرف 20 فیصد ریپیئر اور مینٹیننس کی مد میں الاؤنس دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم بقیہ ضروری اخراجات کو مائنس نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ہماری ریٹرن مکمل طور پر درست نہیں ہوتی اور یا تو ہم زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں یا کم۔

یہی وجہ ہے کہ ضروری ہے کہ چاہے آپ خود ریٹرن فائل کریں یا کسی کنسلٹنٹ سے کروائیں، دونوں کو مکمل معلومات ہونی چاہیے اور فائلنگ کرتے وقت دو بار چیک کرنا بھی ضروری ہے تاکہ کسی بھی غلطی کو بروقت درست کیا جا سکے۔

کچھ صورتوں میں پراپرٹی ٹیکس انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 155 کے تحت at source کٹ ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ اپنی رینٹل انکم پر قابلِ ادائیگی ٹیکس میں یہ ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں۔ مثلاً، اگر آپ کے کرایہ پر ایک لاکھ روپے ٹیکس بنتا ہے اور آپ نے پہلے ہی 70 فیصد (70 ہزار روپے) ودہولڈنگ کی صورت میں ادا کیا ہوا ہے تو سی پی آر کے ذریعے اس رقم کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے بقیہ 30 ہزار روپے ٹیکس جمع کروا سکتے ہیں۔

یہ معمولی باتیں ٹیکس پیئر کے مالی فائدے اور ریٹرن کے درست ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے، ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت ان تمام پہلوؤں کا دھیان رکھیں۔

11/11/2024

جب آپ سونا فروخت کرتے ہیں، تو حاصل ہونے والی رقم کو "کیپیٹل گین" یعنی منافع کہا جاتا ہے۔ ٹیکس قوانین میں سونا بھی ایک کیپیٹل اثاثہ سمجھا جاتا ہے، اور سیکشن 37 اور 38 کے مطابق کیپیٹل گین یعنی منافع کو درج ذیل فارمولے کے تحت شمار کیا جاتا ہے:

Profit = Sale Value - Cost Value

یعنی، فروخت کے وقت سونے کی جو قیمت (Sale Value) ہے، اس میں سے اس کی خریداری کی قیمت (Cost Value) منفی کی جاتی ہے۔ جو رقم بچتی ہے، وہ منافع (Profit) شمار ہوتا ہے۔

مثال:
فرض کریں، آپ نے اپنے ٹیکس ریٹرن میں سونے کی قیمت صفر درج کی ہے (یعنی آپ نے اس کی خریداری کی قیمت کا اندراج نہیں کیا)، تو جب آپ اسے فروخت کریں گے، تو مکمل فروخت کی قیمت پر ٹیکس عائد ہوگا۔

فرض کریں کہ آپ نے سونا 2.5 لاکھ روپے میں خریدا، اور اس وقت اس کی مارکیٹ قیمت 3 لاکھ روپے ہے۔

اب اگر آپ نے اپنی ٹیکس ریٹرن میں خریداری کی قیمت صفر لکھی ہے تو ٹیکس قوانین کے مطابق آپ کو 3 لاکھ روپے پر مکمل ٹیکس ادا کرنا ہوگا، نہ کہ صرف 50 ہزار روپے کے منافع پر۔

اگر آپ اپنی ٹیکس ریٹرن میں ہر سال سونے کی خریداری کی قیمت درج کرتے ہیں، تو آپ کو ٹیکس میں بچت ہو سکتی ہے۔ اس طرح جب آپ اسے فروخت کریں گے، تو صرف اصل منافع (Sale Value - Cost Value) پر ہی ٹیکس عائد ہوگا، نہ کہ مکمل فروخت کی قیمت پر۔

ٹیکس قوانین کے مطابق اگر آپ نے سونے کی قیمت درج نہیں کی، تو مکمل فروخت کی قیمت پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس سے بچنے کے لیے اپنی ٹیکس ریٹرن میں سونے کی اصل قیمت کو صحیح طریقے سے درج کریں، تاکہ صرف منافع پر ہی ٹیکس ادا کرنا ہو۔

درج ذیل فارمولے سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ گولڈ کی فروخت پر جو گین ہوتا ہے اس پر کتنا ٹیکس لگے گا۔
1. *پہلا سلیب: 6 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 0%
- وضاحت:اگر آپ کا منافع 6 لاکھ روپے تک ہے، تو اس پر کوئی ٹیکس نہیں۔ یعنی 6 لاکھ روپے تک کی حد ٹیکس فری ہے۔

2. *دوسرا سلیب: 6 لاکھ روپے سے 8 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 7.5%
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 6 لاکھ سے 8 لاکھ روپے کے درمیان ہے، تو اس پر **7.5% ٹیکس** عائد ہوگا۔

3. *تیسرا سلیب: 8 لاکھ روپے سے 12 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 1500 روپے + 15% (8 لاکھ روپے سے زائد منافع پر)
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 8 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کے درمیان ہے، تو آپ کو **1500 روپے فکسڈ** ادا کرنا ہوں گے، اور ساتھ میں **8 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 15% ٹیکس** ادا کرنا ہوگا۔

4. *چوتھا سلیب: 12 لاکھ روپے سے 24 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 75000 روپے + 20% (12 لاکھ روپے سے زائد منافع پر)
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے کے درمیان ہے، تو آپ کو **75000 روپے فکسڈ** ادا کرنا ہوں گے اور **12 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 20% ٹیکس** ادا کرنا ہوگا۔

5. *پانچواں سلیب: 24 لاکھ روپے سے 30 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 3,15,000 روپے + 25% (24 لاکھ روپے سے زائد منافع پر)
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 24 لاکھ سے 30 لاکھ روپے کے درمیان ہے، تو آپ کو **3,15,000 روپے فکسڈ** ادا کرنا ہوں گے اور **24 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 25% ٹیکس** ادا کرنا ہوگا۔

6. *چھٹا سلیب: 30 لاکھ روپے سے 40 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 4,65,000 روپے + 30% (30 لاکھ روپے سے زائد منافع پر)
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 30 لاکھ سے 40 لاکھ روپے کے درمیان ہے، تو آپ کو **4,65,000 روپے فکسڈ** ادا کرنا ہوں گے اور **30 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 30% ٹیکس** ادا کرنا ہوگا۔

7. *ساتواں سلیب: 40 لاکھ روپے سے اوپر*
- ٹیکس کی شرح: 7,65,000 روپے + 35% (40 لاکھ روپے سے زائد منافع پر)
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 40 لاکھ روپے سے زیادہ ہو تو آپ کو **7,65,000 روپے فکسڈ** ادا کرنے ہوں گے اور **40 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 35% ٹیکس** ادا کرنا ہوگا۔

یہ پوسٹ سونے کی فروخت پر ٹیکس کے اثرات کو سمجھنے اور ٹیکس کی بچت کی بہتر حکمت عملی اپنانے کے لیے ایک گائیڈ فراہم کرتی ہے۔

اگر آپ نے اپنی ٹیکس ریٹرن میں ماضی میں سونے کی قیمت صفر درج کی ہے، تو اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بعد میں سونا بیچتے وقت آپ کو پوری فروخت کی قیمت پر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، چاہے آپ کا اصل منافع کم ہی کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر، اگر آپ نے 2.5 لاکھ روپے میں سونا خریدا اور آج اس کی قیمت 3 لاکھ روپے ہو گئی ہے، تو منافع 50 ہزار روپے بنتا ہے، جس پر کم ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ نے خرید کی قیمت صفر درج کی ہو، تو اب 3 لاکھ روپے کی مکمل رقم پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

اس مسئلے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ٹیکس ریٹرن میں سونے کی اصل قیمت ہر سال درج کریں۔ اس سے آپ کو اگلی فروخت پر صرف منافع پر ہی ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور اضافی بوجھ سے بچت ہوگی۔ مزید براں، اگر آپ ہر سال 6 لاکھ روپے کے اندر سونا فروخت کریں تو آپ ٹیکس سے بچ سکتے ہیں، کیونکہ 6 لاکھ روپے تک کے منافع پر ٹیکس کی شرح صفر ہوتی ہے۔

طویل منصوبہ بندی بھی فائدہ مند ہے، خاص کر اگر آپ کے پاس زیادہ مقدار میں سونا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اسے ایک سال میں نہ بیچیں بلکہ سالوں میں تقسیم کر کے فروخت کریں، اور ہر سال 6 لاکھ کی حد کا دھیان رکھیں۔ اس سے آپ نہ صرف ٹیکس بچا سکتے ہیں بلکہ اپنی سرمایہ کاری کو بہتر طریقے سے استعمال بھی کر سکتے ہیں۔

ٹیکس معاملات کو سمجھنا پیچیدہ ہو سکتا ہے، خاص کر جب بات سونے جیسے قیمتی اثاثے کی ہو۔ اس لیے، پیشہ ور ٹیکس ماہرین کی رہنمائی حاصل کریں۔ ایک ماہر ٹیکس وکیل آپ کو یہ بتا سکتا ہے کہ کس طرح اپنی سرمایہ کاری پر کم سے کم ٹیکس ادا کر کے اپنی رقم کو محفوظ اور موثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اگر کسی وجہ سے اپ نے ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہوئے گولڈ کی ویلیو زیرو لکھی ہے تو کوشش کریں کہ ہر سال چ لاکھ یا اس سے تھوڑی اماؤنٹ کہ گولڈ کو گین میں رپورٹ کریں کیونکہ چھ لاکھ تک کوئ ٹیکس نہیں ہے چھ لاکھ سے اوپر ٹیکس ہوتا ہے تاکہ دونوں صورتوں میں اپ کا گولڈ ڈسپوز اپ بھی ہو جائے اور اپ کو ٹیکس بھی کم سے کم پڑے .

Address

Karachi
Karachi
75950

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Assan Tax posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category